بھٹکل 13/ستمبر (ایس او نیوز) بھٹکل تعلقہ کے بیلکے۔ سوڈی گیدے کراس نیشنل ہائی وے 66 پر ایک ساتھ چار گاڑیوں کی ٹکر میں ایک شخص ہلاک ہوگیا جبکہ 15 سے زائد زخمی ہوگئے۔ حادثہ منگل اور بدھ کی درمیانی شب قریب 12 بجے پیش آیا۔
بتایا گیا ہے کہ گوا سے مچھلیوں کو بھر کر لاری کیرالہ جارہی تھی کہ مینگلور سے ہبلی کی طرف جانے والی گنیش ٹراویلس بس کے ساتھ ٹکراگئی۔اس ٹکر کے ہوتے ہی مینگلور سے ہبلی جانے والی ایک سگما ٹراویلس بس بھی پیچھے سے تیز رفتاری کے ساتھ ٹکراگئی، جبکہ کچھ ہی دیر بعد مینگلور سے ہبلی جانے والا دوسرا گنیش بس بھی اُسی حادثے والی جگہ پر سُگما بس سے ٹکراگیا۔ بتایا گیا ہے کہ اس راستے سے گذرنے والی دو موٹر بائک بھی حادثے کی زد میں آگئی، البتہ بائک والوں کو زیادہ نقصان نہیں ہوا۔
حادثہ اتنا خطرناک تھا کہ لاری ڈرائیور نے موقع پر ہی دم توڑ دیا، جس کی شناخت نیہاڈی عبداللہ جی ایم (35) کی حیثیت سے کی گئی ہے، یہ کیرالہ کے منجویشور کا رہنے والا تھا۔ حادثے میں گنیش ٹراویلس کے ڈرائیور کو بھی شدید چوٹ لگی ہے اور اس کے دونوں پائوں کٹ ہوگئے ہیں،اس کی شناخت نہیں ہوسکی، البتہ اسے نازک حالت میں فوری طور پر مینگلور منتقل کیا گیا ہے۔اس بس کے کلینر کو بھی زیادہ چوٹ لگی ہے، جس کی بھی شناخت نہیں ہوسکی۔
حادثے میں سُوگما بس ڈرائیور دائول غوث صاحب (58) اور بس کلینر لوکیش بھیمپا (24) بھی زخمی ہوئے ہیں، جبکہ گنیش ٹراویلس بس پر سوار زخمیوں کی شناخت سمپا شنکر شیٹ(50)، وسنت نارائن شیٹ (65)، دیویا ناگراج شیٹ (34)، سبھاش چند ر بی کے (44)، پرشانت کے (38)، گنیش وینکٹیش ہیبار (36)، شنکر شیٹ (65)، موہن داس ہیگڈے (46)، سندراچھوت شیٹ (65)، وجیا سندر شیٹ (50) کی حیثیت سے کی گئی ہے۔
لاری سے ڈرائیور کی لاش کو باہر نکالنے میں نوجوانوں کو کافی مشقت کرنی پڑی کیونکہ لاش ایسی بری طرح پھنس گئی تھی کہ نکالنے میں کافی وقت لگا۔ اسی طرح گنیش بس کے ڈرائیور کو بھی کافی احتیاط سے باہر نکالنے میں مقامی لوگوں کو کافی محنت کرنی پڑی۔ حادثے کی وجہ سے کچھ دیر کے لئے نیشنل ہائی وے بند ہوگیا، مگر بعد میں پولس نے سڑک کے دوسرے حصے سے سواریوں کو آنے اور جانے کی سہولت فراہم کی۔
حادثے کی اطلاع ملتے ہی کافی لوگ موقع واردات پر پہنچ کر زخمیوں کو اسپتال پہنچانے میں تعائون پیش کیا، اُدھر سرکاری اسپتال میں بھی مسلم نوجوانوں کی بڑی تعداد مدد کے لئے پہنچ گئی اور زخمیوں کو بھٹکل سرکاری اسپتال میں ابتدائی طبی امداد کے بعد کنداپور روانہ کرنے میں ہر طرح کا تعائون پیش کیا۔
مضافاتی پولس تھانہ میں معاملہ درج کیا گیا ہے، پولس مزید چھان بین کررہی ہے۔